بڑے بول ازقلم، عریشہ عابد

‘سو روپے کا سامان ان لوگوں کو کھلائیں گے کیسے؟’

‘وہی تو میں بھی سوچ رہی ہوں’.

‘بہت تیز لوگ ہیں بھئی ابھی سے لڑکی گھر والوں کے زریعے پتہ کروارہی ہے کی کمرے میں وال کلر کونسا ہورہا ہے’

‘بہت تیز لڑکی یے۔’

‘مجھے تو لگتا ہے ان لوگوں نے ابھی تک فرنیچر بھی نہیں بنوایا اسی لیے کلر کا پوچھنے آئے ہیں’.

‘فرنیچر نہیں بنوایا؟؟ تو کب بنوائیں گے شادی میں دن ہی کتنے رہ گئے ہیں اب.’

‘بچ کے رہنا بھائی بہت تیز لڑکی ہے بھئی’.

‘مجھے تو یہی سوچ کے ٹینشن ہو رہی ہے کہ یہ سو روپے میں آئے سموسے چپس اور نمکو ان سمدھیانے والوں کو ٹھنسانے کے لیے جگر کہاں سے لائیں گے’.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معین کی عمر کافی زیادہ ہوگئی تھی، ماں اور بہنوں کے آئے دن کے نخرے اور ہر رشتے میں نقص نکالتے نکالتے نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ اب اس کے جوڑ کے رشتے ملنے ہی مشکل ہوگئے تھے۔

ہر دوسرے دن اماں بہنیں بن ٹھن کے لڑکی دیکھنے نکلتیں اور واپسی میں کبھی قد چھوٹا،کبھی عمر زیادہ کبھی رنگ دبتا ہوا جیسے بہانے بنا کر بات دبا دیتیں۔

ایسا نہیں تھا کہ معین کوئی بہت حسین و جمیل اور پیسے والا بندہ تھا، بلکہ وہ ایک عام سیاہی مائل رنگت، بے ڈھب سی جسامت اور عام سی 17000 کی نوکری کرنے والا بندہ تھا۔
لیکن اس کی ماں بہنیں ہر لڑکی میں ایسے عیب نکالتی تھیں جیسے ان کا بیٹا کہیں کا مینیجر ہو اور کوئی بہت ہی ہینڈسم قسم کی پرسنیلٹی رکھتا ہو۔

معین کی دو بہنیں تھیں میمونہ اور تسلیم۔
میمونہ کی شادی بہت ہی مشکلوں سے ہوئی تھی، دو تین بار منگنی ٹوٹی اکثر رجیکشن ہوجاتی۔
ہالانکہ میمونہ میں کوئی بھی برائی نہیں تھی ماشاءاللہ انٹر تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد سلائی، کڑھائی، کھانا بنانا گھر سنبھالنا جیسے تمام ہنر تھے اس میں، کوئی کمی تھی تو وسیع سوچ اور اچھی زبان کی کمی تھی جو ان تینوں ماں بیٹیوں میں بےتحاشہ تھی۔

تینوں کی زبان گز بھر کی تھی، جس کو بھی جو منہ میں آتا بک دیا جاتا اور اس کا جواز یہ ہوتا کہ ہم تو منہ پر بات کرتے ہیں جی۔

اللہ اللّٰہ کر کے میمونہ کی شادی تو اس کے سگھڑاپے کی وجہ سے ہوگئی تھی لیکن تسلیم کے لئی رشتہ ڈھونڈنے میں انہیں صحیح معنوں میں دانتوں تلے پسینہ آگیا تھا۔
کیونکہ نہ اسے کھانا بنانے آتا تھا نہ کوئی خاص ہنر، ہاں زبان چلانا، بڑے چھوٹے کو کسی بھی بات پہ زلیل کردینا یا طعنہ ماردینا، کسی آئے گئے کو بنا سلام کئے بھی ڈھٹائی سے ان کے سامنے بیٹھنا یہ سب ایسا تھا کہ تسلیم نے ان تمام خوبیاں کہلیں کا برائیاں میں پی ایچ ڈی کی ہوئی تھی۔

میمونہ کی اندر جو 20 فیصد لحاظ مروت اور رواداری تھی وہ تسلیم میں چھو کر بھی نہیں گزری تھی۔
یہی وجہ تھی کہ اس کے رشتے کے سلسلے میں جو بھی آتا اس کے زبان کے جوہر کے قصے سن کر رفو چکر ہو جاتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان کی اماں نے اچانک تسلیم کے رشتے کے بجائے معین کے لیے رشتہ ڈھونڈنا شروع کر دیا۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ اس طرح ان لوگوں کی زبانیں بھی بند ہوجاتی جو ان کو معین کی عمر دگنی ہونے پہ طعنے دیتے تھے اور نئے رشتے بننے کے بعد تسلیم کی بھی آگے کہیں بات بننے کی ایک موہوم سی امید تھی۔

اپنی مرتبہ ریجیکٹ ہونے پر رونے والی میمونہ اور رشتہ نہ ملنے پر لوگوں کو رنگ نسل اور کم عمری پر مر مٹنے جیسے طعنے دینے والی تسلیم لڑکیاں ایسے ریجیکٹ کرتیں تھیں جیسے بازار میں جانور خریدنے نکلی ہوں۔
معین کی 35 سال کی عمر ہونے کی باوجود 25 سال کی لڑکی کو صرف یہ کہہ کر منع کر آتیں کہ عمربہت زیادہ ہے لڑکی کی
اسی سلسلے میں کوئی دو درجن لڑکیاں کھنگالنے کے بعد انہیں شازیہ پسند آگئی۔

نکاح کی رسم کر کے شادی تک کے لیے وقت مانگ لیا گیا

اب شازیہ کے گھر والے دلہے کے کپڑوں کے پیسے دینے آئے تو کمرے کے رنگ و روغن کے حوالے سے دریافت کرنے لگے کہ شازیہ پوچھ رہی ہے رنگ کونسا ہو رہا ہے کمرے میں۔
تو اس بات پر دونوں بہنوں کے زہر سے لبریز تبصرے اور کومنٹس دو دن تک جاری رہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شازیہ بیاہ کرآئی تو ہر لڑکی کی طرح اس کے دل میں بھی کئی ارمان اور خواہشات تھی جو ہر لڑکی کے دل میں اپنے مجازی خدا اور آنے والی زندگی کو لے کر ہوتی ہیں۔

نئے گھر اور نئے لوگوں میں ایڈجسٹ ہونا اتنا مشکل نہیں ہوتا اگر سب کا رویہ مخلصانہ ہو لیکن جب ہر وقت زہر میں بجھے الفاظ تیر کی طرح مارے جائیں اور کھانے کے نام پر دال چاول کے علاؤہ باہر سے کبھی دل چاہنے پر کھالینے پر لعن طعن سنی جائے تو دلوں میں محبت پیدا ہونے اور گنجائش بننے کی جگہ کوفت، نفرت، بےزاری اور مجبوری لے لیتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پچھلے ہفتے تو تم میکے گئی تھی آج کس خوشی میں جانا ہے؟’

‘امی وہ میری خالہ کی بیٹی کی مہندی ہے’.
شازیہ نے وجہ بتائی۔

‘ٹھہک ہے بھئی 8 بجے چلے جانا اور 12 بجے تم لوگ مجھے گھر میں چاہیے ہو”
اماں جی نے بنا سوچے سمجھے اپنا بےتکا حکم ناما جاری کردیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات مہندی کے فنکشن میں معین اور شازیہ کو سب سے ملتے ملاتے بھی گھر آنے میں 1 بج گیا جو پہلے تو دروازہ ہی نہیں کھولا گیا اور آدھی رات کو پورے محلے نے جوان جہاں بیوی کو معین کی منتیں کرنے کے باوجود اس کے میکے واپس چھوڑنے جاتے دیکھا۔

شازیہ کے گھر والوں نے جیسے تیسے بات رفع دفع کروائی لیکن آنے والے وقت میں شازیہ کے دل میں ان ماں بیٹیوں کے لیے صرف نفرت رہ گئی تھی اور اس نفرت کی وجہ ان ماں بیٹیوں کی زہریلی باتیں تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وقت کا کام ہے گزرنا وہ گزر ہی جاتا ہے شازیہ کے تین بچے اچھے اسکول میں پڑھ رہے تھے تین سال پہلے تسلیم کی بھی شادی ہوگئی تھی لیکن اپنی عدم برداشت فطرت اور زبان کے آگے موجود خندق کی بدولت 6 ہفتے میں ہی وہ سسرال سے الگ ہوگئی اور اس سب میں تسلیم کا بڑھ چڑھ کر ساتھ اماں جی نے دیا تھا بجائے بیٹی کو سمجھانے کے انہوں نے اس کے سسرال والوں کے ساتھ وہ نازیبا گفتگو اور حرکات کی کہ ان لوگوں نے ان میاں بیوی کو خود الگ کردیا تھا۔

دو مہینے میں ہی جب آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوگیا تو زندگی کی اصل سمجھ آنی شروع ہوگئی آئے دن مانگنے پہ اماں جی نے بھی ہاتھ کھنچنا شروع کردیا۔

تسلیم کی فطرت میں صبر،برداشت اور سمجھوتے کا فقدان ہونے کی وجہ سے آئے د۔وہ اپنے شوہر سے لڑ کر میکے آ بیٹھتی۔

پچھلے ایک ہفتے سے وہ اماں جی کے گھر صرف اس وجہ سے بیٹھی تھی کہ اس کے شوہر نے اپنے گھر والوں کو گھر اس سے بنا پوچھے بلالیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‘معین زندگی ایسے نہیں گزرتی جس طرح یہ کرتی ہے ہمارے وقت تو آپ کی اماں جی کی صبر، برداشت اور سمجھوتے والی جو نصیحتیں تھیں وہ اب کہاں گئیں۔
سمجھائیں اسے بھی کہ ایسے گھر نہیں چلتے.’

شازیہ تسلیم کے روز روز کے لڑائی جھگڑے اور نخروں سے تنگ آچکی تھی اس لیے آج معین کو آڑے ہاتھوں لے ہی لیا۔
اتنے سالوں میں اس نے اپنی محبت اور قربانی سے اپنی جگہ معین کے دل میں مستحکم کر ہی لی تھی کہ اب معین اس کی قدر کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے مشورے بھی مانتا تھا۔

‘میں خود عاجز آچکا ہو یار اس روز روز کے ڈرامے سے۔
اس مہنگائی کے دور میں ہم بچے پالیں، گھر دیکھیں، اماں کی دوائیں دیکھیں یا ان کی بےجا فرمائیش۔ کل ہی باربی کیو کی فرمائش پر کوئی 3000 خرچ ہوچکے ہیں۔ اب ہم اتنا فضول خرچ روز کے روز کریں تو کیسے کریں۔ مجھے اب اہتشام سے بات کرنی ہی ہوگی کہ اس کو واپس گھر لے کر جائے اور اماں کو سمجھانا پڑے گا کہ یہ اب بچی نہیں ہے جو روز روز لڑ کر آجائے گی۔
آخر روز کی ان کی عیاشیاں کیسے پوری کروں گا میں.’

معین نے ہتما بات کی اور سونے کے لیے لیٹ گیا اور باہر کھڑی ان کی باتیں چھپ کر کان لگا کے سنتی تسلیم کے کانوں اور دماغ میں اپنی کبھی کی آواز گونج رہی تھی۔

‘سو روپے کے آئے سموسے، چپس اور نمکو ان سمدھیانے والوں کو کھلانے کے لیے جگر لائیں کہاں سے.’

وہ اس وقت یہ بڑا بول بولتے ہوئے بھول گئی تھی کہ کوئی کسی کو نہیں کھلاتا، انسان کے نصیب کے ایک ایک دانہ پر اللّٰہ تعالیٰ نے اسکے نام کی مہر لگائی ہوتی ہے۔
نہ کوئی کسی کے منہ کا نوالہ چھین سکتا ہے نا کسی کو اس کے نصیب کا لینے پر روک سکتا ہے۔
بڑے بول اللّٰہ کو سخت ناپسندیدہ ہیں۔
کبھی یہی بڑے بول گھر آئے مہمان کی مدارت کرتے ہوئے تسلیم نے بولے تھے آج وہی بول اس کو پلٹ کر واپس مل گئے۔
ناانصافی کا 50 فیصد سے زیادہ خمیازہ دنیا میں انسان بھگت لیتا ہے آخرت کی سزا تو مزید دردناک ہوتی ہے۔

اللّٰہ ہم سب کو بڑے بول اور غرور و گھمنڈ سے پرے رکھے اور ہمارے دلوں کو اچھائی کی روشنی سے روشن کردے۔
آمین ثم آمین

Picture downloaded from Google

For more interesting novels do visit

http://areeshaabid.blogspot.com

One thought on “بڑے بول ازقلم، عریشہ عابد

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s