بڑے بول ازقلم، عریشہ عابد

‘سو روپے کا سامان ان لوگوں کو کھلائیں گے کیسے؟’

‘وہی تو میں بھی سوچ رہی ہوں’.

‘بہت تیز لوگ ہیں بھئی ابھی سے لڑکی گھر والوں کے زریعے پتہ کروارہی ہے کی کمرے میں وال کلر کونسا ہورہا ہے’

‘بہت تیز لڑکی یے۔’

‘مجھے تو لگتا ہے ان لوگوں نے ابھی تک فرنیچر بھی نہیں بنوایا اسی لیے کلر کا پوچھنے آئے ہیں’.

‘فرنیچر نہیں بنوایا؟؟ تو کب بنوائیں گے شادی میں دن ہی کتنے رہ گئے ہیں اب.’

‘بچ کے رہنا بھائی بہت تیز لڑکی ہے بھئی’.

‘مجھے تو یہی سوچ کے ٹینشن ہو رہی ہے کہ یہ سو روپے میں آئے سموسے چپس اور نمکو ان سمدھیانے والوں کو ٹھنسانے کے لیے جگر کہاں سے لائیں گے’.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معین کی عمر کافی زیادہ ہوگئی تھی، ماں اور بہنوں کے آئے دن کے نخرے اور ہر رشتے میں نقص نکالتے نکالتے نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ اب اس کے جوڑ کے رشتے ملنے ہی مشکل ہوگئے تھے۔

ہر دوسرے دن اماں بہنیں بن ٹھن کے لڑکی دیکھنے نکلتیں اور واپسی میں کبھی قد چھوٹا،کبھی عمر زیادہ کبھی رنگ دبتا ہوا جیسے بہانے بنا کر بات دبا دیتیں۔

ایسا نہیں تھا کہ معین کوئی بہت حسین و جمیل اور پیسے والا بندہ تھا، بلکہ وہ ایک عام سیاہی مائل رنگت، بے ڈھب سی جسامت اور عام سی 17000 کی نوکری کرنے والا بندہ تھا۔
لیکن اس کی ماں بہنیں ہر لڑکی میں ایسے عیب نکالتی تھیں جیسے ان کا بیٹا کہیں کا مینیجر ہو اور کوئی بہت ہی ہینڈسم قسم کی پرسنیلٹی رکھتا ہو۔

معین کی دو بہنیں تھیں میمونہ اور تسلیم۔
میمونہ کی شادی بہت ہی مشکلوں سے ہوئی تھی، دو تین بار منگنی ٹوٹی اکثر رجیکشن ہوجاتی۔
ہالانکہ میمونہ میں کوئی بھی برائی نہیں تھی ماشاءاللہ انٹر تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد سلائی، کڑھائی، کھانا بنانا گھر سنبھالنا جیسے تمام ہنر تھے اس میں، کوئی کمی تھی تو وسیع سوچ اور اچھی زبان کی کمی تھی جو ان تینوں ماں بیٹیوں میں بےتحاشہ تھی۔

تینوں کی زبان گز بھر کی تھی، جس کو بھی جو منہ میں آتا بک دیا جاتا اور اس کا جواز یہ ہوتا کہ ہم تو منہ پر بات کرتے ہیں جی۔

اللہ اللّٰہ کر کے میمونہ کی شادی تو اس کے سگھڑاپے کی وجہ سے ہوگئی تھی لیکن تسلیم کے لئی رشتہ ڈھونڈنے میں انہیں صحیح معنوں میں دانتوں تلے پسینہ آگیا تھا۔
کیونکہ نہ اسے کھانا بنانے آتا تھا نہ کوئی خاص ہنر، ہاں زبان چلانا، بڑے چھوٹے کو کسی بھی بات پہ زلیل کردینا یا طعنہ ماردینا، کسی آئے گئے کو بنا سلام کئے بھی ڈھٹائی سے ان کے سامنے بیٹھنا یہ سب ایسا تھا کہ تسلیم نے ان تمام خوبیاں کہلیں کا برائیاں میں پی ایچ ڈی کی ہوئی تھی۔

میمونہ کی اندر جو 20 فیصد لحاظ مروت اور رواداری تھی وہ تسلیم میں چھو کر بھی نہیں گزری تھی۔
یہی وجہ تھی کہ اس کے رشتے کے سلسلے میں جو بھی آتا اس کے زبان کے جوہر کے قصے سن کر رفو چکر ہو جاتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان کی اماں نے اچانک تسلیم کے رشتے کے بجائے معین کے لیے رشتہ ڈھونڈنا شروع کر دیا۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ اس طرح ان لوگوں کی زبانیں بھی بند ہوجاتی جو ان کو معین کی عمر دگنی ہونے پہ طعنے دیتے تھے اور نئے رشتے بننے کے بعد تسلیم کی بھی آگے کہیں بات بننے کی ایک موہوم سی امید تھی۔

اپنی مرتبہ ریجیکٹ ہونے پر رونے والی میمونہ اور رشتہ نہ ملنے پر لوگوں کو رنگ نسل اور کم عمری پر مر مٹنے جیسے طعنے دینے والی تسلیم لڑکیاں ایسے ریجیکٹ کرتیں تھیں جیسے بازار میں جانور خریدنے نکلی ہوں۔
معین کی 35 سال کی عمر ہونے کی باوجود 25 سال کی لڑکی کو صرف یہ کہہ کر منع کر آتیں کہ عمربہت زیادہ ہے لڑکی کی
اسی سلسلے میں کوئی دو درجن لڑکیاں کھنگالنے کے بعد انہیں شازیہ پسند آگئی۔

نکاح کی رسم کر کے شادی تک کے لیے وقت مانگ لیا گیا

اب شازیہ کے گھر والے دلہے کے کپڑوں کے پیسے دینے آئے تو کمرے کے رنگ و روغن کے حوالے سے دریافت کرنے لگے کہ شازیہ پوچھ رہی ہے رنگ کونسا ہو رہا ہے کمرے میں۔
تو اس بات پر دونوں بہنوں کے زہر سے لبریز تبصرے اور کومنٹس دو دن تک جاری رہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شازیہ بیاہ کرآئی تو ہر لڑکی کی طرح اس کے دل میں بھی کئی ارمان اور خواہشات تھی جو ہر لڑکی کے دل میں اپنے مجازی خدا اور آنے والی زندگی کو لے کر ہوتی ہیں۔

نئے گھر اور نئے لوگوں میں ایڈجسٹ ہونا اتنا مشکل نہیں ہوتا اگر سب کا رویہ مخلصانہ ہو لیکن جب ہر وقت زہر میں بجھے الفاظ تیر کی طرح مارے جائیں اور کھانے کے نام پر دال چاول کے علاؤہ باہر سے کبھی دل چاہنے پر کھالینے پر لعن طعن سنی جائے تو دلوں میں محبت پیدا ہونے اور گنجائش بننے کی جگہ کوفت، نفرت، بےزاری اور مجبوری لے لیتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پچھلے ہفتے تو تم میکے گئی تھی آج کس خوشی میں جانا ہے؟’

‘امی وہ میری خالہ کی بیٹی کی مہندی ہے’.
شازیہ نے وجہ بتائی۔

‘ٹھہک ہے بھئی 8 بجے چلے جانا اور 12 بجے تم لوگ مجھے گھر میں چاہیے ہو”
اماں جی نے بنا سوچے سمجھے اپنا بےتکا حکم ناما جاری کردیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات مہندی کے فنکشن میں معین اور شازیہ کو سب سے ملتے ملاتے بھی گھر آنے میں 1 بج گیا جو پہلے تو دروازہ ہی نہیں کھولا گیا اور آدھی رات کو پورے محلے نے جوان جہاں بیوی کو معین کی منتیں کرنے کے باوجود اس کے میکے واپس چھوڑنے جاتے دیکھا۔

شازیہ کے گھر والوں نے جیسے تیسے بات رفع دفع کروائی لیکن آنے والے وقت میں شازیہ کے دل میں ان ماں بیٹیوں کے لیے صرف نفرت رہ گئی تھی اور اس نفرت کی وجہ ان ماں بیٹیوں کی زہریلی باتیں تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وقت کا کام ہے گزرنا وہ گزر ہی جاتا ہے شازیہ کے تین بچے اچھے اسکول میں پڑھ رہے تھے تین سال پہلے تسلیم کی بھی شادی ہوگئی تھی لیکن اپنی عدم برداشت فطرت اور زبان کے آگے موجود خندق کی بدولت 6 ہفتے میں ہی وہ سسرال سے الگ ہوگئی اور اس سب میں تسلیم کا بڑھ چڑھ کر ساتھ اماں جی نے دیا تھا بجائے بیٹی کو سمجھانے کے انہوں نے اس کے سسرال والوں کے ساتھ وہ نازیبا گفتگو اور حرکات کی کہ ان لوگوں نے ان میاں بیوی کو خود الگ کردیا تھا۔

دو مہینے میں ہی جب آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوگیا تو زندگی کی اصل سمجھ آنی شروع ہوگئی آئے دن مانگنے پہ اماں جی نے بھی ہاتھ کھنچنا شروع کردیا۔

تسلیم کی فطرت میں صبر،برداشت اور سمجھوتے کا فقدان ہونے کی وجہ سے آئے د۔وہ اپنے شوہر سے لڑ کر میکے آ بیٹھتی۔

پچھلے ایک ہفتے سے وہ اماں جی کے گھر صرف اس وجہ سے بیٹھی تھی کہ اس کے شوہر نے اپنے گھر والوں کو گھر اس سے بنا پوچھے بلالیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‘معین زندگی ایسے نہیں گزرتی جس طرح یہ کرتی ہے ہمارے وقت تو آپ کی اماں جی کی صبر، برداشت اور سمجھوتے والی جو نصیحتیں تھیں وہ اب کہاں گئیں۔
سمجھائیں اسے بھی کہ ایسے گھر نہیں چلتے.’

شازیہ تسلیم کے روز روز کے لڑائی جھگڑے اور نخروں سے تنگ آچکی تھی اس لیے آج معین کو آڑے ہاتھوں لے ہی لیا۔
اتنے سالوں میں اس نے اپنی محبت اور قربانی سے اپنی جگہ معین کے دل میں مستحکم کر ہی لی تھی کہ اب معین اس کی قدر کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے مشورے بھی مانتا تھا۔

‘میں خود عاجز آچکا ہو یار اس روز روز کے ڈرامے سے۔
اس مہنگائی کے دور میں ہم بچے پالیں، گھر دیکھیں، اماں کی دوائیں دیکھیں یا ان کی بےجا فرمائیش۔ کل ہی باربی کیو کی فرمائش پر کوئی 3000 خرچ ہوچکے ہیں۔ اب ہم اتنا فضول خرچ روز کے روز کریں تو کیسے کریں۔ مجھے اب اہتشام سے بات کرنی ہی ہوگی کہ اس کو واپس گھر لے کر جائے اور اماں کو سمجھانا پڑے گا کہ یہ اب بچی نہیں ہے جو روز روز لڑ کر آجائے گی۔
آخر روز کی ان کی عیاشیاں کیسے پوری کروں گا میں.’

معین نے ہتما بات کی اور سونے کے لیے لیٹ گیا اور باہر کھڑی ان کی باتیں چھپ کر کان لگا کے سنتی تسلیم کے کانوں اور دماغ میں اپنی کبھی کی آواز گونج رہی تھی۔

‘سو روپے کے آئے سموسے، چپس اور نمکو ان سمدھیانے والوں کو کھلانے کے لیے جگر لائیں کہاں سے.’

وہ اس وقت یہ بڑا بول بولتے ہوئے بھول گئی تھی کہ کوئی کسی کو نہیں کھلاتا، انسان کے نصیب کے ایک ایک دانہ پر اللّٰہ تعالیٰ نے اسکے نام کی مہر لگائی ہوتی ہے۔
نہ کوئی کسی کے منہ کا نوالہ چھین سکتا ہے نا کسی کو اس کے نصیب کا لینے پر روک سکتا ہے۔
بڑے بول اللّٰہ کو سخت ناپسندیدہ ہیں۔
کبھی یہی بڑے بول گھر آئے مہمان کی مدارت کرتے ہوئے تسلیم نے بولے تھے آج وہی بول اس کو پلٹ کر واپس مل گئے۔
ناانصافی کا 50 فیصد سے زیادہ خمیازہ دنیا میں انسان بھگت لیتا ہے آخرت کی سزا تو مزید دردناک ہوتی ہے۔

اللّٰہ ہم سب کو بڑے بول اور غرور و گھمنڈ سے پرے رکھے اور ہمارے دلوں کو اچھائی کی روشنی سے روشن کردے۔
آمین ثم آمین

Picture downloaded from Google

For more interesting novels do visit

http://areeshaabid.blogspot.com

Malaise

Hold my hand
Pull me out
From that feeling,
Of disquieting
From that sorrow,
Of being ignored
From that illustration,
Of being nothing
I’m tired of
Literally sick of,
Being nobody
I want to get out,
From that frame,
Of pain
I want to reveal myself,
In the world of mean
What should I do
What will it been
Oh please someone,
Take me out of dreams
Oh please someone,
Make be feel alike
Oh please someone
Just tell me that,
I’m also a human being.

By ✒

Areesha Abid

ULJHI SULJHI SI KAHANI (Urdu Novel)

Hello reading and writing lovers 👋

How are you all?

Do you guys love to read Fictional Urdu novels???📖

Here is a great story for you all.

A true story full of a girl who faced the brutal faces of the society, lots of twists🔀 and turns.

And a lesson for all girls and society that if you have hope, then you can achieve everything.

Do give it a read it will turn your mind towards a new era, and please do give me feedbacks also…….

Here is the link of episodes 👇going on…..

https://areeshaabid.blogspot.com/search/label/Urdu%20Novel?m=1

آزادی کشمیریوں کا حق ہے۔

اک وادی تھی جنت کی نظیر
اک وادی تھی خوشیوں کی زمیں،

جہاں محبت کی بولی بجتی تھی
جہاں خوشیوں کی ڈولی سجتی تھی،

وہاں قدرت کی تھی بہتات بہت
وہاں رنگوں کی تھی بہار بہت،

جہاں جھرنے بہتے تھے چشموں سے
جہاں فضا رچی تھی خوشبوؤں سے،

پھر تقسیم کی یوں ہوا چلی
آزادی کی تحریک اٹھی،

مقدر میں اس کے پاک نشان آیا
باشندوں کی خوشیوں کا پیام آیا،

راتوں رات سازش کی بو پھیلی
آزادی کی جگہ فتنے کی ریت چلی،

جو تھی جنت کی نظیر اسے جہنم بنادیا
آزادی اس کے لیے مسئلہ بنادیا،

جہاں ہوا میں خوشبو بستی تھی
وہاں بارود کی بو اٹھنے لگی،

جہاں محبت کی بولی بجتی تھی
وہاں نفرت کی گونج اٹھنے لگی،

جہاں قدرت کی تھی بہتات بہت
وہاں اب حیوانوں کا ہے راج بہت،

جہاں رنگوں کی تھی بہار ہر سو
ظالموں نے بکھیر دیا لہو رنگ ہر سو،

جہاں قہقہوں کی گونج اٹھتی تھی
وہاں اب معصوم آہیں گردش میں ہیں،

بچے بوڑھے اور جوان
سب ہیں کئی سالوں سے پریشان،

اے ظالم تجھ کو خبر نہیں
قدرت کسی ظالم کو بخشتی نہیں،

انجام تیرا مثل فرعون ہوگا
ظالم تو بھی عذاب کی نظر ہوگا،

آزادی حقِ انسانی ہے
کشمیر پاکستانی ہے۔

ازقلم،✒
عریشہ عابد۔

PBWRP LITERARY FIESTA STORY

پاکستان بلاگرز، رائٹرز، ریڈرز اینڈ پوئٹس لٹریری فیئسٹا کی کہانی عریشہ عابد کی زبانی۔

بہت ڈرتے جھجکتے 20 جنوری 2019 کو میں Mövenpick Hotelپہنچی۔

ڈر اور جھجک یہ تھی کہ پتہ نہیں کوئی مجھ ناچیز کو پہچانے گا بھی کہ نہیں۔
کاریڈور میں ہی سامنے سے آتے Abdullah Azzam نظر

آئے۔ میری حیرت کی انتہا نہیں رہی کہ نہ آنے کا رونا رونے والے لوگ کیسے آگئے۔
خیر روک کر حال احوال پوچھا کہ آپ آ ہی گئے تو جناب مسکراتے ہوئے آگے بڑھے اور میں بھی اپنی راہ۔
سامنے دیکھا تو Arham Waseemجی جی وہی پاور والے بابا انٹرنس کے پاس موجود تھے۔
اپنا ٹکٹ دیتے اور نام بتانے کے دوران تھوڑا سلام دعا کر کے پاور ادھار لے کر اندر کی جانب قدم رکھا۔

اندر آتے ہی پہلے تو کوئی پہچان میں نہ آیا کہ کون کون موجود ہیں۔
پھر دائیں طرف نظر گھمائی تو Afeerh Zaujah Mahmood نظر آئیں ان کی طرف بڑھی۔
مجھے دیکھتے ہی عفیرہ آپا کا گلے لگانا مجھے نہال کرگیا
“اررےےے عریشہ” کہہ کر جس محبت سے وہ گلے لگیں دل بس دل سہی معنوں میں گارڈن گارڈن ہوگیا تھا۔

برابر میں ہی تین پیاری سی لڑکیاں کھڑی تھیں جن میں سے Aymun Saleem کو تو میں پہچان گئی دوسری پیاری سی لڑکی کا تعارف آپا نے کرایا کہ Syeda Jiya Haider Abdi ہیں۔
اب جو تیسری پیاری سی لڑکی تھی اس نے شرط رکھی کہ خود پہچانو
اور انداز سے اندازہ ہوگیا کہ ہو نہ ہو یہ Pireh Memon ہیں اور جناب اندازہ درست رہا۔
پھر جی خوبصورت سی Nazia Ghous ریڈ اینڈ مسٹرڈ امتزاج میں بہت پیاری لگ رہیں تھیں ان سے بھی بگل گیر ہوئی اور محبتیں سمیٹیں۔
خود میں ہمت کر کے ڈرتے ڈرتے Nazia Kamran Kashif کی طرف بڑھی جھجھکتے ہوئے سلام پیش کیا انھوں نے نام پوچھا میں نے بتایا ہی تھا اور نازیہ میم اتنی محبت، تپاک، گرمجوشی اور خلوص سے گلے لگیں کہ سہی معنوں میں اس وقت میں نے خوشی کے آنسوؤں کو دھکے مار مار کر اندر بند کیا۔
ماشاءاللہ بلیک ڈریس میں نازیہ میم اس پورے منظر کا ایک بہت ہی حسین حصہ لگ رہیں تھیں۔
لگے ہاتھوں ماشاءاللہ کہتے ہوئے گھر جا کر نظر اتارنے کا مشورہ بھی دے ڈالا جو انہوں نے بہت پیاری سی مسکان کے ساتھ ہنستے ہوئے جواب دیا۔

تو جناب میں پرھ کے ساتھ ہی براجمان ہوگئی اور وہ تمام ڈسکشن جو اپنے کپڑوں کے حوالے سے واٹس ایپ اور میسنجر پر گزشتہ دنوں کرتے رہے تھے ایک دوسرے کے ساتھ، اس پر اوکے کا سائن دیا اور آس پاس نظر دوڑانے لگے۔
اتنے میں Anila Razzaq پر نظر پڑی آف وائٹ سوٹ میں بہت ہی پیاری لگ رہیں تھیں۔
پرھ کے ساتھ ان سے ملنے گئے وہ بھی اسی گرمجوشی سے ملیں بہت اچھا لگا ان سے بات کرکے ماشاءاللہ چاشنی سے لبریز آواز کی حامل ہیں انیلا۔

ججز کی طرف نگاہ گئی Muhammad Saad Chaudhry ہال میں تشریف لائے تب معلوم ہوا کہ Usama Khalid نہیں آپائے۔
لیکن سب نے انہیں بہت یاد کیا۔

تھوڑی دیر میں تقریب کا آغاز ہوا نازیہ میم نے اپنی خوبصورت آواز میں سب کا ویلکم کیا اور PBWRP کا تعارف کرایا اور پھر Abdulallah Rehmani کو اسٹیج پر دعوت دی کہ وہ قرات قرآن سے آغاز کو اللّٰہ باری و تعالیٰ کے بابرکت نام سے ماحول کو منور کر دیں۔

اس کے بعد نازیہ میم نے جس شخصیت کو اسٹیج پر دعوت دی اس شخصیت نے ہر طرف اپنی باتوں کا ایسا جادو جگایا کہ ہر کوئی ان کے ٹرانس میں آگیا۔
وہ شخصیت Mush Panjwani ہیں۔
انہوں نے انسانی زندگی کی کامیابی کے چار اسٹیپ واضح کیے
Dream-goal-planning-action
ماشاءاللہ اس انداز میں سمجھایا کہ ہر کوئی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہا۔
پھر جب وہ جانے لگے تو میں اور پرھ اتنے امپریسڈ ہوئے تھے کہ ان کے ساتھ ایک سیلفی تو لینی ہی تھی۔
ہم دونوں ہمت کر کے ان تک گئے اور ان سے سیلفی کی رکویسٹ کی جو فوراً سے پوری بھی ہوگئی۔
باہر آکر سیلفی لینے کے بعد کامران بھائی سے سلام دعا ہوئی۔
پھر اندر آکر مزید پروگرام انجوائے کیا۔

ایمن سلیم پاس ہی تھیں ان سے کومل شہاب کے متعلق دریافت کیا انھوں نے بتایا کہ کومل کے یہاں رشتے داروں میں کوئی فوتگی ہوگئی تھی۔
انا للّٰہ وانا الیہ راجیون۔
سن کے بہت افسوس ہوا۔
کومل سے ملنے کا بہت دل تھا۔
انشاللہ کبھی نہ کبھی ضرور ملیں گے۔

پرویز مقابلے کا آغاز ہو چکا تھا۔
عبداللہ رحمانی نے بھرپور انداز میں پرفارم کیا۔
سیدہ جیا حیدر عابدی نے بہت جوبی سے اپنی پرفارمینس دی کہ پرھنے انہیں فرسٹ پرائز دے ڈالا(اصل میں جو جو آتا جارہا تھا پرھ اپنی طرف سے ہر بندے کو نمبر اور غائبانہ پرائز سے نواز رہیں تھیں)
عریبہ بنت یوسف، نبیہا نقوی، عایشہ یاسین، سیدہ نایاب، عریشہ شعیب، آمنہ عمران سب ہی لاجواب تھے۔
اب پرھ کے لیے مشکل ہونے لگی کہ کسے فرسٹ پرائز دے کسے سیکنڈ کسے تھرڈ کیونکہ ماشاءاللہ سے سب ہی ٹیلنٹڈ اور بہترین پرفارم کر کے گئے تھے۔

پھر Sneha Kumari کی جاندار ہیلو پر Ishroon Nazish میم نے بےساختہ کھڑے ہوکر تالیاں بجوائیں
کیونکہ ماشاءاللہ اتنی چھوٹی سی عمر میں اتنا پاور پیک اور اسٹیج کمفرٹ داد طلب تھا۔
بقول پرھ دل لے لیا لڑکی نے۔

اور hareem Ahmed کی بریانی منہ میں پانی کے آئی۔
بریانی پر کیا آعلی تجزیہ پیش کیا کہ ہر کوئی بریانی کے تصور اور ذائقہ کے حصار میں آگیا۔

ایک سے بڑھ کر ایک سب ہی لاجواب تھے۔ m.ali Samejo کا انداز بھی لاجواب تھا۔
سب سے زیادہ مزا تو تب آیا Faiz Farooq اسٹیج پر تشریف لائے۔
“مولوی کا اپنی بیگم کو خط”
ٹاپک کا نام سنتے ہی ہم نے ویڈیو بنانا اسٹارٹ کردی اور کیا زبردست پرفارمینس تھی ہنس ہنس کر س بےحال ہو گئے تھے۔

نازیہ غوث باری باری سب کو اسٹیج پر دعوت دے رہیں تھیں۔ Daniya Shakir نے بھی خوبی سے پرفارم کیا۔ واقعی اسٹیج پر پرفارم کرنا بہت زیادہ ہمت کا کام ہوتا ہے۔

اور Kashfa Syedبھی پڑی خوبی سے اپنی پرفارمینس سے دل لے گئی ماشاءاللہ بہترین انداز بیان تھا۔

ٹھہراؤ کی بات کی جائے تو Alina Irfan کا انداز، آواز اور پرفارمینس بہترین تھی کیا لفظوں کی ادائیگی تھی ماشاءاللہ بہت خوب۔
جب وہ پرفارم کر کے جانے لگیں تو ملاقات ہوئی حال احوال دریافت کیا بہت ہی اچھا لگا ان سے مل کر۔

تو جی پروز مقابلہ ختم ہوا اور Tani Alex نے اپنی سریلی آواز سے سماں باندھ دیا۔
پرھ تو اموشنل ہوگئی تھیں ان کی آواز میں کھو کر کیا بہترین انداز میں انہوں نے ہر گانے کو خوب نبھایا۔ سر تال لے سب ہی بھرپور اتار چڑھاؤ سے پیش کیئے۔

پھر پویٹری مقابلے کا آغاز ہوا۔

ہماری ایک اور جج Nida S. Fahad اپنی پیاری بیٹی اور مجازی خدا کے ہمراہ تشریف لائیں۔

سب ہی پارٹیسپینٹس بہترین انداز میں کلام پیش کر رہے تھے عفیرہ آپا سب کو باری باری اسٹیج پر دعوت دے رہیں تھیں۔ Uzair Jalil, Tani Alex, Amna Aftab, ateeba Afzal, Rida Khan, abeera rauf,hafsa malik,سب ہی نے بہترین پرفارمینس دی۔

ردا خان کی پرفارمینس بہترین تھی ان کا انداز بیان اور الفاظ کی ادائیگی بہت اعلیٰ تھی۔ تبھی تو فرسٹ پرائز حاصل کیا اتنا زبردست پرفارمینس پر۔

کافی دیر سے ہم Khushbakht Iqbal کی تلاش میں تھے پھر وہ اسٹیج پر آکر اپنی پرفارمینس بڑی خوبی سے دے کر گئی۔

اپنے گرینڈ پیرنٹس کے ساتھ آئیں Alfiya Faheem نے بھی بہت زبردست پرفارمینس دی۔ ان کی نانی کو میری طرف سے اگین ہیپی برتھڈے اور بہت سی دعائیں۔

ارے اپنی پیاری سمرن کا بتانا تو میں بھول گئی۔ جی جی سہی سمجھے بہت ہی پیاری Anila Razzaq کیا زبردست پرفارمینس دی انہوں نے۔ انداز بیان خوب اور الفاظ و آواز کا اتار چڑھاؤ بہترین۔

جب بات آتی ہے پویٹری کی تو نازیہ غوث کو کون بھول سکتا بھئی کیا بہترین آزاد نظم پیش کی بہت خوب اور زبردست بس یہی نکل رہا تھا دل سے۔

فہرست اور سب کی باریاں آگے پیچھے لکھ گئی ہوں میں لیکن ماشاءاللہ یاد سب ہی تھے۔ Ehtisham Malik نے بھی بہت خوب پرفارمینس دی واقعی دل دھڑکنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

اس کے بعد پروز مقابلہ کے رزلٹ کے لیے ججز کو فیصلے کا وقت دیا گیا۔

اس بیچ پیاری سی نازیہ غوث نے اپنی مدھر آواز کا جادو جگایا اور سب کو ہی سر دھننے پر مجبور کردیا۔ بہت ہی جوبصورت سماں باندھ دیا تھا۔

ہماری گیسٹ اسپیکر Humaira Anwaar نے ہم سب کو اپنے اپنے لکھے گئے مواد میں پختگی لانے کی بہترین ٹپس دیں۔
ان ہی کی اسپیچ کا اثر ہے کہ میں نے یہ احوال اردو میں لکھا ہے۔ واقعی ہماری اردو کو فروغ کی ضرورت ہے۔

ہم سب نے Chaitan Khumar کو اور ان کی اسپیشل سنگنگ پرفارمینس کو بہت زیادہ مس کیا۔

نازیہ میم کے سسر صاحب جو کہ خاص کر لاہور سے تشریف لائے تھے اس تقریب کے لیے انہیں اسٹیج پر مدعو کیا۔ ماشاءاللہ خالص اور بےریا لوگوں کی پہچان ان کی سادگی سے ہوجاتی ہے۔
جناب محترم گریسفل شخصیت کے حامل ہیں۔ اور جس انداز میں انہوں نے حاضرین محفل سے کلام کیا بہترین تھا۔
اللّٰہ ان کا سایہ ہمیشہ نازیہ میم اور کامران کاشف بھائی پر سلامت رکھے آمین۔

پھر اسٹیج پر نادیہ میم نے آکر ونرز اناؤنس کرنے کا آغاز کیا اور جب انہوں نے پوچھا کہ کون جیتنا چاہتا ہے تو ایک بھی ہاتھ نہ اٹھا، کیونکہ سب ہی وننرز تھے سب ہی نے بہترین پرفارمینس دی تھیں، سب ہی کا کام بہترین تھا۔

عشرون نازش کو اسٹیج پر مدعو کر کے پرائز دیے گئے پھر انہوں نے بہت خوبی سے ہم سب سے کلام کیا۔

پیاری سی شاعرہ اور ایوینٹ جج Neel Ahmed کو اسٹیج پر دعوت دی گئی پرائز دسٹربیوشن کے لیے اور اس کے بعد کیا عمدہ کلام انھوں نے پیش کیا کہ دل عش عش کر اٹھے۔

پھر بہت ہی پیاری اور ٹیلنٹڈ Nida S. Fahad اپنی چھوٹی سی گڑیا کو لیے اسٹیج پر تشریف لائیں۔ ماں ہونے کے ساتھ ساتھ دوسری زمہ داریاں بھی ایک ساتھ انجام دینا دل سے دعا نکلی ان کے لیے واقعی وہ ایک سپرومین ہیں۔
انھوں نے بہت ہی پیاری اپنی تحریر پیش کی اور سب کو پرفارمینس کی مزید ٹپس دیں جو بہت ہی فاعدہ مند تھیں۔ پھر پرائز دسٹربیوشن کیا گیا۔

سعد چودھری بھی اسٹیج پر تشریف لائے اور اپنی تحریر سنائی۔ بہت اچھا لگا لائیو سن کر۔

سب پارٹیسپینٹس کو سرٹیفکیٹ اور giveaway دیے گئے۔
پھر تمام لوگ جو اس ایونٹ کا حصہ رہے جنہوں نے اس کو کامیاب بنانے میں اپنی خدمات پیش کی ان سب کو appreciation award کامران کاشف بھائی نے پیش کیے۔
نازیہ میم کا بڑاپن اور مخلصانہ انداز کہ انہوں نے ہر انسان جس جس نے محنت کی تھی چاہے وہ ٹیم کا حصہ ہوں فوٹوگرافر ہوں ججز ہوں ہر ایک انسان کو appreciate کیا اوارڈ دے کر۔ واقعی وہ ایک بہترین خاتون ہیں۔ اللّٰہ پاک انہیں ہنستا مسکراتا رکھے، انہیں ڈھیر سارے پیار، محبت اور کامیابی سے نوازے۔ آمین۔

کلوسنگ اسپیچ کامران کاشف بھائی نے کی ماشاءاللہ بہت ہی خوبی سے۔

بس ایک ہی کمی لگی کہ کاش ہم سب مل کر نازیہ میم کو بھی award دے سکیں کہ انہوں نے سب کے اندر کے ٹیلنٹ کو اجاگر کیا ہے وہ بلاشبہ ایک بہترین خاتون ہیں جو بہت ہی خوبصورت دل رکھتی ہیں۔

اس کے بعد ishroon Nazish کے ساتھ ملاقات اور سیلفی لینے کا شرف حاصل ہوا۔ ماشاءاللہ بےریا اور خوبصورت مسکراہٹ اور دل کی حامل ہیں وہ اس قدر پیار سے ملیں کہ دل خوش ہوگیا۔

ندا فہد جو میری انسپریشن ہیں ان سے آمنے سامنے ملنے کا سیلفی لینے کا شرف حاصل ہوا واقعی آج میں جو کچھ بھی ہوں ان کے گروپ superwomen of Pakistan کی بدولت ہوں۔ انھوں نے پاکستانی خواتین میں میں اعتماد اور کچھ کر دکھانے کا جذبہ اجاگر کیا ہے۔
اللّٰہ پاک انہیں ہمیشہ خوشیوں اور کامیابیوں سے نوازے آمین۔

اس کے بعد اپنی تمام ساتھیوں سے ملاقات ہوئی جنہیں پہلے پہچان نہیں پارہی تھی اب سب دل سے قریب محسوس ہورہے تھے۔
علینہ عرفان، خوش بخت اقبال، منیزہ امد، عرو سید، نئیرہ، دانیا، کشف، پرھ سب سے تھوڑی تھوڑی ملاقات ہوئی۔

پھر واپس ہال میں آئے تو نازیہ میم نے اسٹیج پر دعوت دی کیونکہ جناب ہم سب نے مل کر Ain Haider کے سیفی کو خراج تحسین پیش کرنا تھا کہ وہ ہیں ہی منحوس۔
پھر سب کے ساتھ گروپ فوٹو لی۔
نازیہ میم کے ساتھ سیلفی کی رکویسٹ کی جو پوری بھی ہوگئی۔
علینہ عرفان کے ساتھ سیلفی لی لیکن دھندلا گئی جو کہ میں نے بعد میں دیکھا مگر کوئی بات نہیں محبت اور لگاؤ میں دھندلاہٹ نہیں آئے گی انشاللہ۔

سب سے محبتیں اور پیار سمٹتے گھر کی راہ لی۔
ایک سبق کے ساتھ۔
کہ انسان اگر چاہے تو مثبت رویا اور خلوص سے اس جہاں کو آباد کرسکتا ہے بس اس کے لیے اپنے دل سے مطلب پرستی کی میل، جلن کی آگ اور دوسروں کو نیچا کرنے کی کوشش ختم کردے تو یہ دنیا اپنے آپ جنت کا نمونہ بن جائے گی۔
یہ تمام لوگ کسی اور ہی دنیا کے باسی ہیں بےریا، مخلص اور ایماندار اپنے کام اور تعلقات کے ساتھ۔
اللّٰہ ان سب لوگوں کو ہمیشہ خوشیوں اور کامیابیوں سے نوازے۔ آمین ثم آمین۔

ازقلم،
عریشہ عابد۔

#10YearsChallenge #KeypointsofMyLife

10 years ago an ambitious but a scared teenage girl, who had just passed her school and started college life, who had lost her father and didn’t know anything what will happen to her.
A girl wanted to do some achievement in the field of science, all she wanted was her dreams to be fulfilled.
Dreams to studied higher, dreams to do something for her and her family, dreams to proved herself in front of her criticizers.

And after 10 years, a girl become a lady who have faced all the negativity, brutality and cruelest face of relations and life, but neither any negativity nor any resistance stop her to do struggle and effort for herself.

A journey from an ambitious but scared teenager to a full-time housewife, a mom, an entrepreneur, a writer and a blogger.

A journey from Areesha Javed to Areesha Abid
Was neither easy nor a bed of roses.

The morals brings these ten years for me;

  • Never ever break yourself on others judgement or brutal words even though you have still a stamina to breath for a minute.
  • Always live like there is no tomorrow.
  • Live happily and carefree because no one cares but it matters to one’s soul and body.
  • Always love yourself and your body because this is the reason you are alive. What you have been created by Allah is perfect.
  • Never ever cry for the things you don’t have. Always be grateful for the wealth you possess.
  • Never complain for the loss. Every loss has some benefits behind.
  • Kick-ass those who want to let you down. They do nothing but resist you from the goal.

By✒
Areesha Abid